ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سدھاکر وزیر صحت کے عہدے کیلئے نا اہل: رضوان ارشد

سدھاکر وزیر صحت کے عہدے کیلئے نا اہل: رضوان ارشد

Wed, 19 May 2021 12:32:10    S.O. News Service

بنگلورو،19؍مئی(ایس او  نیوز)کرناٹک کے وزیر صحت سدھاکر ایک نا اہل وزیر ہیں اور ریاست میں کورونا وائرس کو قابوسے باہر جانے لئے سدھاکر کی لا پروائی کافی حد تک ذمہ دار ہے۔

کے پی سی سی دفتر میں منگل کے روز سابق وزراء کرشنا بائرے گوڑا اور پریانک کھرگے کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے رضوان ارشد نے کہا کہ ریاست اور ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خوفناک اثرات کے متعلق ماہرین نے جیسے ہی حکومت کو محتاط کیا تھا اسی وقت کانگریس نے بھی حکومت سے گزار ش کی تھی کہ وہ احتیاطی قدم اٹھائے لیکن ایساکرنے کی بجائے حکومت سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات کروانے میں لگی رہی۔ماہرین کی طرف سے دی گئی وارننگ کو مرکزی اور ریاستی دونوں بی جے پی حکومتوں نے نظر انداز کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں و زیر صحت سدھاکر برائے نام ہیں ان سے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔ ان کی نا اہلی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے ان کے کام کی ذمہ داری اپنے دیگر چار وزراء میں تقسیم کردی ہے اور اب سدھاکر کے پاس محکمہ صحت کی کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے شدت اختیار کرنے کے بعد سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے کرناٹک کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کورونا ویکسین کی فراہمی میں ریاستوں کے ساتھ امتیاز کر رہی ہے۔ مرکز کم قیمت ادا کر کے کمپنیوں سے ویکسین خرید رہا ہے اور ریاستوں کو منافع کے ساتھ فروخت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے پہلے ٹیکہ اتسو کا اعلان کیا اور بعد میں وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا نے ریاست میں کورونا ٹیکہ مہم کا افتتاح کردیا جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ کرناٹک میں کورونا کے ٹیکوں کا ذخیرہ ہی موجود نہیں ہے۔

سابق ریاستی وزیر پریانک کھرگے نے اس موقع پر بی جے پی کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں کورونا کی پازیٹیویٹی شرح حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے اوریہاں کی صورتحال خوفناک بنی ہوئی ہے۔ ملک میں خوفناک پازیٹیویٹی ریٹ کے لئے جن پانچ اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے دو اضلاع بلاری اور اتر کرناٹک کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طر ف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کورونا ویکسین کے لئے 35ہزا ر کروڑ وپے مختص کئے گئے ہیں ریاست کے اراکین پارلیمان او ر مرکزی وزراء کو یہ بتانا ہو گا کہ اس میں سے کتنی رقم کرناٹک کے لئے مخصوص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائر س کے معاملہ زیادہ ہو نے کے سبب بدنامی کے خوف سے ریاستی حکومت نے کووڈ ٹیسٹوں کی تعدا د میں غیر معمولی کمی کردی ہے اور محکمہ صحت کے عملہ سے کہا گیا ہے کہ صرف ان لوگوں کا ٹیسٹ کیا جائے جن میں کورونا جیسی علامتیں ہیں عام لوگوں کا ٹیسٹ کرنے سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اس ہدایت کے نتیجے میں کرناٹک میں کورونا ٹیسٹوں کی تعداد روزانہ 1لاکھ سے بھی کم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز ریاست بھرمیں صرف 97336افراد کا کووڈ ٹیسٹ کیا گیا۔ اتنی کم تعداد میں ٹیسٹوں کے باوجود بھی 38ہزار نئے کیسوں کی نشاندہی ہوئی ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حسب معمول اگرٹیسٹ جاری رکھے گئے تو مریضوں کی تعداد کیا ہو سکتی ہے اور ریاست میں صورتحال کس قدر سنگین ہو گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس کوتاہی کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


Share: